مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ الْعِشَاءَ فَطَوَّلَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ ب: الشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و اللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو عشاء کی نماز پڑھائی اور نماز لمبی کر دی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”یہ سورتیں پڑھا کرو: «والشمس وضحاها»، «سبح اسم ربك الأعلى»، «والليل إذا يغشى» اور «اقرأ بسم ربك» “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 836]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصلاة 36 (465)، سنن النسائی/الإمامة 39 (832)، 41 (836)، الافتتاح 63 (985)، 70 (998)، (تحفة الأشراف: 2912)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 60 (701)، 63 (705)، الأدب 74 (6106)، سنن ابی داود/الصلاة 68 (600)، 127 (790)، مسند احمد (3/299، 308، 369) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: عشاء میں یہ سورتیں اور ان کے ہم مثل سورتیں پڑھنی چاہئے، جیسے سورۃ «بروج» ، سورۃ «انشقاق» ، سورۃ «طارق» ، سورۃ «غاشیہ» ، سورۃ «فجر» اور سورۃ «لم یکن» یہ سورتیں حدیث میں مذکور سورتوں کے قریب قریب ہیں، عشاء میں ایسی ہی سورتیں پڑھنا سنت ہے تاکہ مقتدیوں پر بوجھ نہ ہو۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح