عُثْمَانُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْهُذَلِيُّ الدِّمَشْقِيُّ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، الزَّبْرِقَانِ بْنِ عَمْرٍو الضَّمْرِيِّ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ إِسْمَاعِيل الْهُذَلِيُّ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الزَّبْرِقَانِ بْنِ عَمْرٍو الضَّمْرِيِّ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيَنْتَهِيَنَّ رِجَالٌ عَنْ تَرْكِ الْجَمَاعَةِ أَوْ لَأُحَرِّقَنَّ بُيُوتَهُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”لوگ جماعتوں کے چھوڑنے سے ضرور باز رہیں، ورنہ میں ان کے گھروں کو آگ لگا دوں گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 795]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 90، ومصباح الزجاجة: 298)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/206) (صحیح)» (سند میں ولید بن مسلم مدلس ہیں، اور عثمان مجہول اور زبرقان کا سماع اسامہ رضی اللہ عنہ سے نہیں ہے، لیکن حدیث سابقہ شواہد سے صحیح ہے، تراجع الألبانی: رقم: 381)
وضاحت
۱؎: اس باب کی احادیث سے صاف ظاہر ہے کہ نماز جماعت فرض ہے، جماعت کی حاضری بہت ضروری ہے جماعت کے ترک کی رخصت صرف چند صورتوں میں ہے: سخت سردی، بارش کی رات، کوئی سخت ضرورت ہو جیسے بھوک لگی ہو اور کھانا تیار ہو، پیشاب و پاخانہ کی حاجت ہو بصورت دیگر سستی یا کاہلی کے سبب جماعت ترک کرنا جائز نہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح