أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، زَائِدَةَ ، عَاصِمٍ ، أَبِي رَزِينٍ ، ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ ، عَنْ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي كَبِيرٌ ضَرِيرٌ شَاسِعُ الدَّارِ، وَلَيْسَ لِي قَائِدٌ يُلَاوِمُنِي، فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ رُخْصَةٍ؟ قَالَ:" هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" مَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا: میں بوڑھا اور نابینا ہوں، میرا گھر دور ہے اور مجھے مسجد تک لانے والا میرے مناسب حال کوئی آدمی بھی نہیں ہے، تو کیا آپ میرے لیے (جماعت سے غیر حاضری کی) کوئی رخصت پاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اذان سنتے ہو؟“، میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 792]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصلاة 47 (552)، (تحفة الأشراف: 10788)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الإمامة 50 (852)، مسند احمد (3/423) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے جماعت کی بڑی اہمیت و تاکید ثابت ہوتی ہے، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو جماعت سے غیر حاضر رہنے کی اجازت نہ دی، حالانکہ وہ اندھے تھے، اور انہوں نے کہا کہ میرے پاس کوئی آدمی بھی نہیں ہے جو مجھ کو پکڑ کر لائے، کیونکہ ان کا گھر مسجد سے بہت دور نہ تھا، وہ اذان کی آواز سنتے تھے اور بغیر آدمی کے آ سکتے تھے، اور بعضوں نے کہا: حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تمہارے لیے جماعت کا ترک جائز نہیں کیونکہ اندھا ہونا جماعت سے معافی کے لئے قوی عذر ہے، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کی جماعت ان کے اندھے ہونے کی وجہ سے معاف کی، بلکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے لئے ایسی رخصت نہیں پاتا کہ تم جماعت میں حاضر نہ ہو، اور جماعت کا ثواب نہ پاؤ، «واللہ اعلم» ۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (552)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 407
الحكم: صحيح