عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ رُسْتَةُ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ رُسْتَةُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَفْضُلُ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کا جماعت کی نماز تنہا پڑھی گئی نماز پر ستائیس درجہ فضیلت رکھتی ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 789]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/المساجد 42 (65)، (تحفة الأشراف: 8184)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان30 (645)، 31 (649)، سنن الترمذی/الصلاة 47 (215)، سنن النسائی/الامامة 42 (836)، موطا امام مالک/الجماعة 1 (1)، مسند احمد (2/17، 65، 102، 112)، سنن الدارمی/الصلاة 56 (1313) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس سے پہلی والی حدیث میں نماز باجماعت کی فضیلت (۲۵) گنا کا ذکر ہے اور اس حدیث میں (۲۷) گنا فضیلت بتائی گئی ہے، اس کی توجیہ علماء نے یہ کی ہے کہ یہ فضیلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پہلے (۲۵) گنا بتلائی گئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے مزید اضافہ فرما کر اسے (۲۷) گنا کر دیا، اور بعض نے کہا کہ یہ کمی بیشی نماز میں خشوع و خضوع اور اس کے سنن و آداب کی حفاظت کے اعتبار سے ہوتی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح