بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 751 — باب: مسجد میں سونے کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: مسا جد اور جماعت کے احکام و مسائل باب: مسجد میں سونے کا بیان۔ حدیث 751
إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" كُنَّا نَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں مسجد میں سوتے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 751]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 8012)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 58 (440)، سنن الترمذی/الصلاة 122 (321)، سنن النسائی/المساجد 29 (723)، مسند احمد (2/12)، سنن الدارمی/الصلاة 117 (1440) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: مسجد میں سونا جائز ہے، خصوصاً مسافر کے واسطے مگر جن لوگوں کا گھر بار موجود ہو ان کے لئے ہمیشہ مسجد میں سونے کی عادت کو بعض علماء نے مکروہ کہا ہے، اور جو لوگ نماز کے لئے مسجد میں آئیں وہ اگر وہاں سو جائیں تو درست ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایسا کیا ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (750) باب پر واپس اگلی حدیث (752) →