أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، مُعَمَّرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَبِي رَافِعٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنِي مُعَمَّرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَدَّثَنِي أَبِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، قَالَ:" رَأَيْتُ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثْنَى مَثْنَى، وَيُقِيمُ وَاحِدَةً".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اذان دیتے دیکھا، وہ اذان کے کلمات دو دو بار کہہ رہے تھے، اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 732]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12024، ومصباح الزجاجة: 272) (صحیح)» (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں معمر بن محمد ضعیف ہیں)
وضاحت
۱؎: ان احادیث سے طحاوی اور ابن جوزی کی یہ روایت باطل ہو گئی کہ بلال رضی اللہ عنہ اقامت کے کلمات دو دو بار کہتے رہے یہاں تک کہ فوت ہو گئے، یعنی ایک ایک بار اقامت کے کلمات انہوں نے کہے، کیونکہ یہ شہادت ہے نفی پر اور یہ جائز ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ نے کبھی اقامت کے کلمات ایک ایک بار بھی کہے ہوں، اور کبھی دو دو بار اور اس راوی نے ایک ایک بار کہنا نہ سنا ہو، اور اس صورت میں دونوں طرح کی روایتوں میں توفیق و تطبیق ہو جائے گی۔
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف لإتفاقھم علي ضعف معمر بن محمد بن عبيداللّٰه وأبيه محمد ‘‘ (وانظرالحديث السابق: 449)
محمد بن عبيداللّٰه: ضعيف عندالجمھور (مجمع الزوائد 114/6)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 404
الحكم: صحيح لغيره