مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَبُو دَاوُدَ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ:" كَانَ بِلَالٌ لَا يُؤَخِّرُ الْأَذَانَ عَنِ الْوَقْتِ، وَرُبَّمَا أَخَّرَ الْإِقَامَةَ شَيْئًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بلال رضی اللہ عنہ اذان وقت سے مؤخر نہ کرتے، اور اقامت کبھی کبھی کچھ مؤخر کر دیتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأذان والسنة فيه/حدیث: 713]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2178، ومصباح الزجاجة:)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 29 (606)، سنن ابی داود/الصلاة 44 (537)، سنن الترمذی/الصلاة 34 (202) (حسن)» (سند میں شریک القاضی سیء الحفظ ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: الإرواء: 227)
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اقامت اس وقت تک نہ ہوتی جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حجرہ مبارکہ سے باہر نہ آ جاتے، اور آپ کو دیکھ کر بلال رضی اللہ عنہ اقامت شروع کرتے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
شريك عنعن
وحديث أبي داود (403) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 404
الحكم: حسن