أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، أَبُو النَّضْرِ ، أَبُو جَعْفَرٍ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں، یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دینے لگیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اور میں اللہ کا رسول ہوں، اور وہ نماز قائم کرنے، اور زکاۃ دینے لگیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 71]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12259)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الزکاة 1 (1399)، 40 (1457)، المرتدین 3 (6924)، صحیح مسلم/الإیمان 8 (21)، سنن ابی داود/الزکاة 1 (1556)، سنن الترمذی/الإیمان 1 (2606)، سنن النسائی/الزکاة 3 (2442)، المحاربة 1 (3983)، مسند احمد (2/528) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے: 3927) (صحیح متواتر)» (اس کی سند حسن ہے، لیکن اصل حدیث متواتر ہے)
وضاحت
۱؎: اس سے اسلام کے چار بنیادی ارکان معلوم ہوئے: ۱۔ توحید باری تعالیٰ، ۲۔ رسالت محمدیہ کا یقین و اقرار، ۳۔ اقامت نماز، ۴۔ زکاۃ کی ادائیگی، یہ یاد رہے کہ دوسری صحیح حدیث: «بني الإسلام على خمس» میں اسلام کے پانچویں رکن روزہ کا بھی ذکر ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح متواتر
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
متواتر
الحكم: صحيح متواتر