مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ، أَوْ قَالَ: لِجَارِهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنے بھائی (یا اپنے پڑوسی) کے لیے وہی چیز پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 66]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الإیمان 7 (13)، صحیح مسلم/الإیمان 17 (45)، سنن الترمذی/صفة القیامة 59 (2515)، سنن النسائی/الإیمان 19 (5019)، (تحفة الأشراف: 1239)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/89، 3/171، 172، 176، 206)، سنن الدارمی/الرقاق 29 (2782) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی کامل مومن نہیں ہو سکتا، اس حدیث سے مسلمانوں کی باہمی خیر خواہی کی اہمیت و فضیلت ظاہر ہوئی، اس سنہری اصول پر اگر مسلمان عمل کرنے لگ جائیں تو معاشرے سے لوٹ کھسوٹ، رشوت، بددیانتی، جھوٹ فریب وغیرہ بیماریاں خودبخود ختم ہو جائیں گی۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح