أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا وَكَانَتْ حَائِضًا:" انْقُضِي شَعْرَكِ، وَاغْتَسِلِي"، قَالَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ:" انْقُضِي رَأْسَكِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب وہ حالت حیض میں تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اپنے بال کھول لو، اور غسل کرو“ ۱؎، علی بن محمد نے اپنی حدیث میں کہا: ”اپنا سر کھول لو“۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 641]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17285، ومصباح الزجاجة: 241)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض 16 (316)، 17 (317)، الحج 31 (1556)، المغازي 77 (4395)، صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، سنن ابی داود/الحج 23 (1781)، سنن النسائی/الطہارة 151 (243)، المناسک 58 (2765)، مسند احمد (6/164، 177، 191، 246) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غسل حیض میں سر کا کھولنا ضروری ہے، اس میں بہ نسبت غسل جنابت کے زیادہ صفائی کی ضرورت ہوتی ہے، یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ جنابت کے غسل میں سر کا کھولنا ضروری نہ رکھا، کیونکہ وہ اکثر ہوا کرتا ہے، اور بار بار کھولنے سے عورتوں کو تکلیف ہوتی ہے، اور حیض کا غسل مہینے میں ایک بار ہوتا ہے، اس میں سر کھولنے سے کسی طرح کا حرج نہیں بلکہ ہر ایک عورت مہینے میں ایک دوبار اپنا سر کھولتی، اور بالوں کو دھوتی ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح