أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُدْنِي رَأْسَهُ إِلَيَّ وَأَنَا حَائِضٌ، وَهُوَ مُجَاوِرٌ تَعْنِي: مُعْتَكِفًا، فَأَغْسِلُهُ، وَأُرَجِّلُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں حیض کی حالت میں ہوتی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں معتکف ہوتے، تو آپ اپنا سر مبارک میری طرف بڑھا دیتے، میں آپ کا سر دھو کر کنگھا کر دیتی۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 633]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17288)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحیض 6 (301)، الاعتکاف 4 (2021)، اللباس 76 (5925)، صحیح مسلم/الحیض 3 (297) سنن النسائی/الطہارة 176 (278)، الحیض 21 (387)، موطا امام مالک/الطہارة 28 (102)، مسند احمد (6/32، 55، 86، 170، 204)، سنن الدارمی/الطہارة 108 (1098) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: حجرہ کا دروازہ مسجد ہی میں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حجرے کے اندر اپنا سر مبارک کر دیتے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کنگھی کر دیتیں، بال دھو دیتیں، آپ ہمیشہ بال رکھتے تھے، آپ نے صرف حج میں بال منڈائے ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح