مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ ، أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَنْبَأَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ، قَالَ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ ، أَنْبَأَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، قَال:" إِنَّمَا كَانَتْ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ أُمِرْنَا بِالْغُسْلِ بَعْدُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہ اجازت ابتداء اسلام میں تھی، پھر ہمیں بعد میں غسل کا حکم دیا گیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 609]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطہارة 84 (214، 215)، سنن الترمذی/الطہارة 81 (111)، (تحفة الأشراف: 27)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/ 115، 116)، سنن الدارمی/الطہارة 74 (787) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: مطلب یہ کہ اب چاہے انزال ہو یا نہ ہو غسل واجب ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح