أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشِ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، كُرَيْبٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ ، مَيْمُونَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ:" وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا فَاغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَأَكْفَأَ الْإِنَاءَ بِشِمَالِهِ عَلَى يَمِينِهِ فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَفَاضَ عَلَى فَرْجِهِ، ثُمَّ دَلَكَ يَدَهُ فِي الأَرْضِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا، وَذِرَاعَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَفَاضَ الْمَاءَ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى فَغَسَلَ رِجْلَيْهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا، آپ نے غسل جنابت کیا اور برتن کو اپنے بائیں ہاتھ سے دائیں ہاتھ پر انڈیلا، اور دونوں ہتھیلی کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنی شرمگاہ پہ پانی بہایا، پھر اپنا ہاتھ زمین پر رگڑا، پھر کلی کی، ناک میں پانی ڈالا، اور اپنا چہرہ اور بازو تین تین بار دھویا، پھر پورے جسم پر پانی بہایا، پھر غسل کی جگہ سے ہٹ کر اپنے پاؤں دھوئے۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 573]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الغسل 1 (249)، 5 (257)، 7 (259)، 8 (260)، 10 (265)، 11 (266)، 16 (274)، 18 (276)، 21 (281)، صحیح مسلم/الحیض 9 (317)، سنن ابی داود/الطہارة 98 (245)، سنن الترمذی/الطہارة 76 (103)، سنن النسائی/الطہارة 161 (254)، الغسل 14 (408)، 15 (418، 419)، (تحفة الأشراف: 18064)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/230، 335، 336)، سنن الدارمی/الطہارة 40 (739)، 67 (774) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یہ غسل کا مسنون طریقہ ہے، اور اس کی روشنی میں ضروری ہے کہ سارے بدن پر پانی پہنچائے، یا پانی میں ڈوب جائے، کلی کرنی اور ناک میں پانی ڈالنا بھی ضروری ہے، اور جس قدر ممکن ہو بدن کا ملنا بھی ضروری ہے، باقی امور آداب اور سنن سے متعلق ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح