عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، أَبِي صَالِحٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ، أَوْ سَبْعُونَ بَابًا، أَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَأَرْفَعُهَا قَوْلُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الْإِيمَانِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان کے ساٹھ یا ستر سے زائد شعبے (شاخیں) ہیں، ان میں سے ادنی (سب سے چھوٹا) شعبہ ۱؎ تکلیف دہ چیز کو راستے سے ہٹانا ہے، اور سب سے اعلیٰ اور بہتر شعبہ «لا إله إلا الله» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں“ کہنا ہے، اور شرم و حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے“ ۲؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 57]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الإیمان 3 بلفظ: ''وستون'' (9)، صحیح مسلم/الإیمان 12 بلفظ: ''وسبعون'' وھو الأرجح (35)، سنن ابی داود/السنة 15 (4676)، سنن الترمذی/الإیمان 6 (2614)، سنن النسائی/الإیمان 16 (5007، 5008، 5009)، (تحفة الأشراف: 12816)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/414، 242، 445) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «شعبةٌ» میں تنوین تعظیم کے لئے ہے۔ ۲؎: حیاء ایمان کی ایک اہم شاخ ہے کیونکہ یہ نفس انسانی کی اصلاح و تربیت میں نہایت مؤثر کردار ادا کرتی ہے، نیز وہ انسان کو برائیوں سے روکتی اور نیکیوں پر آمادہ کرتی ہے، اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان کے عمل کے اعتبار سے بہت سے مراتب و اجزاء ہیں، اور اس میں کمی اور بیشی بھی ہوتی ہے، اور یہی اہل سنت و الجماعت کا عقیدہ ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح