عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ ، الْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ الْأَوْدِيِّ ، عَنِ الْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْجَوْرَبَيْنِ وَالنَّعْلَيْنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا، اور پاتا ہوں اور جوتوں پر مسح کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 559]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الطہارة 61 (159)، سنن الترمذی/الطہارة 74 (99)، (تحفة الأشراف: 11534)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الطہارة 96 (124)، مسند احمد (4/252) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی جب ان کو طہارت کر کے پہنے، تو پھر ان پر مسح صحیح ہے، اتارنا ضروری نہیں، اور جن لوگوں نے اس میں قیدیں لگائی ہیں کہ پائے تابے چمڑے کے ہوں، یا موٹے ہوں، اتنے کہ خود بخود تھم رہیں، یہ سب خیالی باتیں ہیں جن کی شرع میں کوئی دلیل نہیں ہے، اصل یہ ہے کہ شارع علیہ السلام نے اپنی امت پر آسانی کے لئے پاؤں کا دھونا ایسی حالت میں جب موزہ یا جراب یا جوتا چڑھا ہو معاف کر دیا ہے جیسے سر کا مسح عمامہ بندھی ہوئی حالت میں، پھر اس آسانی کو نہ قبول کرنا، اور اس میں عقلی گھوڑے دوڑانے کی کیا ضرورت ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (159) ترمذي (99)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 398
الحكم: صحيح