بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 553 — باب: مقیم اور مسافر کے لیے مسح کی مدت کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل باب: مقیم اور مسافر کے لیے مسح کی مدت کا بیان۔ حدیث 553
عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِيهِ ، إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ:" جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثًا، وَلَوْ مَضَى السَّائِلُ عَلَى مَسْأَلَتِهِ لَجَعَلَهَا خَمْسًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسافر کے لیے تین دن تک کی اجازت دی ہے اور اگر پوچھنے والا اپنے سوال کو جاری رکھتا تو شاید اسے آپ پانچ دن کر دیتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 553]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏سنن ابی داود/الطہارة 60 (157)، سنن الترمذی/الطہارة 71 (95)، (تحفة الأشراف: 3528)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/213، 214، 215) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: اگر مسافر نے وضو کرنے کے بعد موزے پہنے ہیں، تو وہ ان پر تین دن اور تین رات تک مسح کر سکتا ہے، واضح رہے کہ جس وقت پہنا ہے اس کا اعتبار نہیں بلکہ جس نماز کے وقت سے موزے پر مسح شروع کیا ہے اس کا اعتبار ہو گا، نیز نہانے کی حاجت اگر ہو جائے، تو اتارنے پڑیں گے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (157)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 398
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (552) باب پر واپس اگلی حدیث (554) →