مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، ابْنِ أَنْعُمٍ هُوَ الْإِفْرِيقِيُّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنِي رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ ابْنِ أَنْعُمٍ هُوَ الْإِفْرِيقِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعِلْمُ ثَلَاثَةٌ، فَمَا وَرَاءَ ذَلِكَ فَهُوَ فَضْلٌ آيَةٌ مُحْكَمَةٌ، أَوْ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ، أَوْ فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”علم تین طرح کا ہے، اور جو اس کے علاوہ ہے وہ زائد قسم کا ہے: محکم آیات ۱؎، صحیح ثابت سنت ۲؎، اور منصفانہ وراثت ۳؎“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 54]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الفرائض 1 (2885)، (تحفة الأشراف: 8876) (ضعیف)» (سند میں تین راوی: رشدین بن سعد، عبدالرحمن بن زیاد بن أنعم الإفریقی اور عبد الرحمن بن رافع ضعیف ہیں)
وضاحت
۱؎: یعنی غیر منسوخ قرآن کا علم۔ ۲؎: یعنی صحیح احادیث کا علم۔ ۳؎: فرائض کا علم جس سے ترکے کی تقسیم انصاف کے ساتھ ہو سکے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
سنن أبي داود (2885)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 376
الحكم: ضعيف