أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: نَزَلَ بِعَائِشَةَ ضَيْفٌ، فَأَمَرَتْ لَهُ بِمِلْحَفَةٍ لَهَا صَفْرَاءَ، فَاحْتَلَمَ فِيهَا فَاسْتَحْيَا أَنْ يُرْسِلَ بِهَا وَفِيهَا أَثَرُ الِاحْتِلَامِ، فَغَمَسَهَا فِي الْمَاءِ، ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ :" لِمَ أَفْسَدْتَ عَلَيْنَا ثَوْبَنَا، إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ أَنْ تَفْرُكَهُ بِإِصْبَعِكَ، رُبَّمَا فَرَكْتُهُ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِصْبَعِي".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک مہمان آیا، انہوں نے مہمان کے لیے اپنی پیلی چادر دینے کا حکم دیا، اسے اس چادر میں احتلام ہو گیا، اسے شرم محسوس ہوئی کہ وہ چادر کو اس حال میں بھیجے کہ اس میں احتلام کا نشان ہو، اس نے چادر پانی میں ڈبو دی، پھر عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج دیا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اس نے ہمارا کپڑا کیوں خراب کر دیا؟ اسے تو انگلی سے کھرچ دینا کافی تھا، میں نے اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کپڑے سے منی اپنی انگلی سے کھرچی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 538]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الطہارة 85 (116)، (تحفة الأشراف: 17677) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح