مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيَّانِ ، مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، رِشْدِينُ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الدِّمَشْقِيَّانِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ ، أَنْبَأَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ، إِلَّا مَا غَلَبَ عَلَى رِيحِهِ، وَطَعْمِهِ، وَلَوْنِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی مگر جو چیز اس کی بو، مزہ اور رنگ پر غالب آ جائے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 521]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4860، ومصباح الزجاجة: 218) (ضعیف)» (رشدین اور راشد بن سعد دونوں ضعیف ہیں، یہ حدیث صحیح نہیں ہے، لیکن علماء کا اس کے عمل پر اجماع ہے، یعنی اگر نجاست پڑنے سے پانی میں تبدیلی پیدا ہو جائے تو وہ پانی نجس ہے)
وضاحت
۱؎: نجاست پڑنے کے بعد اگر پانی میں بو، رنگ اور مزہ کی تبدیلی ہو جائے تو وہ پانی کم ہو یا زیادہ نجس و ناپاک ہو جائے گا، اس پر علماء کا اجماع ہے کما تقدم۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد فيه رشدين وھو ضعيف واختلف عليه مع ضعفه ‘‘ ويغني عنه الإجماع،انظر: الإجماع لابن المنذر (ص 33 نص 11،12) رشدين: ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 397
الحكم: ضعيف