بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 52 — باب: رائے اور قیاس سے اجتناب و پرہیز۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: سنت کی اہمیت و فضیلت باب: رائے اور قیاس سے اجتناب و پرہیز۔ حدیث 52
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَعَبْدَةُ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَحَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، وَعَبْدَةُ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ . ح وحَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَحَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ النَّاسِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمُ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، فَإِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا، وَأَضَلُّوا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ علم کو اس طرح نہیں مٹائے گا کہ اسے یک بارگی لوگوں سے چھین لے گا، بلکہ اسے علماء کو موت دے کر مٹائے گا، جب اللہ تعالیٰ کسی بھی عالم کو باقی اور زندہ نہیں چھوڑے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے، ان سے مسائل پوچھے جائیں گے، اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے، تو گمراہ ہوں گے، اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب السنة/حدیث: 52]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏صحیح البخاری/ العلم 34 (100)، الاعتصام 7 (7307)، صحیح مسلم/العلم 5 (2673)، سنن الترمذی/العلم 5 (2652)، (تحفة الأشراف: 8883)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/257، 261)، سنن الدارمی/المقدمة 26 (245) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت
۱؎: یعنی جب کتاب و سنت سے آگاہی رکھنے والے علماء ختم ہو جائیں گے تو کتاب و سنت کا علم لوگوں میں نہ رہے گا، لوگ نام و نہاد علماء اور مفتیان سے مسائل پوچھیں گے، اور یہ جاہل اور ہوا پرست اپنی رائے یا اور لوگوں کی رائے سے ان سوالات کے جوابات دیں گے، اس طرح سے لوگ گمراہ ہو جائیں گے، اور لوگوں میں ہزاروں مسائل خلاف کتاب و سنت پھیل جائیں گے، اس لئے اس حدیث کی روشنی میں مسلمانوں کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ کتاب و سنت کے علم کے حاصل کرنے میں پوری جدوجہد کریں، اور علم اور علماء کی سرپرستی قبول کریں، اور کتاب و سنت کے ماہرین سے رجوع ہوں، ورنہ دنیا و آخرت میں خسارے کا بڑا امکان ہے، اس لئے کہ جہالت کی بیماری کی وجہ سے امت مختلف قسم کے امراض میں مبتلا رہتی ہے، جس کا علاج وحی ہے، جیسے آنکھ بغیر روشنی کے بے نور رہتی ہے، ایسے ہی انسانی عقل بغیر وحی کی روشنی کے گمراہ، پس نور ہدایت کتاب و سنت میں ہے، جس کے لئے ہم سب کو سنجیدہ کوشش کرنی چاہئے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
بخاري ومسلم
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (51) باب پر واپس اگلی حدیث (53) →