أَبُو كُرَيْبٍ ، الْمُحَارِبِيُّ ، مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ:" سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ التَّشَبُّهِ فِي الصَّلَاةِ؟ فَقَالَ:" لَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا، أَوْ يَجِدَ رِيحًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نماز میں حدث کا شبہ ہو جانے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک کہ آواز نہ سن لے یا بو نہ محسوس کر لے نماز نہ توڑے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 514]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4048، ومصباح الزجاجة: 213)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/96) (صحیح)» (اس سند میں ضعف ہے، اس لئے کہ محاربی کا معمر سے سماع ثابت نہیں ہے، نیز وہ مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، زہری کے حفاظ تلامذہ نے اس حدیث کو زہر ی عن ابن المسیب عن عبد اللہ بن زید بن عاصم رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، جو صحیحین اور سنن ابی داود، و نسائی میں ہے، ملاحظہ ہو: (513) اس سابقہ حدیث سے تقویت پاکر اصل حدیث صحیح ہے، نیز ابوسعید الخدری رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث دوسرے طریق سے مسند احمد میں بھی ہے، (3/37)
وضاحت
۱؎: مطلب یہ ہے کہ جب ہوا کے خارج ہونے کا یقین ہو جائے، تب نماز توڑے، اور جا کر وضو کرے محض شک اور وہم کی بناء پر نہیں۔
قال الشيخ الألباني
صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح لغيره