أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، مِسْعَرٌ ، مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، أَبِي حَبِيبِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُنْيَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ، عَنْ أَبِي حَبِيبِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُنْيَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ أَتَى أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَمَعَهُ عُمَرُ فَخَرَجَ عَلَيْهِمَا، فَقَالَ:" إِنِّي وَجَدْتُ مَذْيًا فَغَسَلْتُ ذَكَرِي وَتَوَضَّأْتُ"، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَ يُجْزِئُ ذَلِكَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے۔ وہ (گھر سے) باہر تشریف لائے۔ (بات چیت کے دوران ان میں ابی نے) فرمایا: مجھے مذی آ گئی تھی تو میں نے عضو خاص کو دھو کر وضو کیا ہے (اس لیے باہر آنے میں دیر ہوئی) عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا یہ (وضو کر لینا) کافی ہوتا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! فرمایا: کیا آپ نے یہ مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (خود) سنا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 507]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 51، ومصباح الزجاجة: 210)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/320، 5/117) (ضعیف الإسناد)» (سند ابوحبیب کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے)
وضاحت
۱ ؎: مذی اور اسی طرح پیشاب اور پاخانہ کے راستہ سے جو چیز بھی نکلے اس سے وضو ٹوٹنے میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
أبو حبيب: مجهول (تقريب: 8038) وأصله في الصحيحين من حديث علي والمقداد رضي اللّٰه عنهما (البخاري: 132 ومسلم: 303)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 396
الحكم: ضعيف