أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، سُوَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنْبَأَنَا سُوَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ الْأَنْصَارِيُّ ،" أَنَّهُمْ خَرَجُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالصَّهْبَاءِ" صَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ دَعَا بِأَطْعِمَةٍ، فَلَمْ يُؤْتَ إِلَّا بِسَوِيقٍ فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَمَضْمَضَ فَاهُ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا الْمَغْرِبَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سوید بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ خیبر کی جانب نکلے، جب مقام صہباء ۱؎ میں پہنچے تو عصر کی نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھانا منگایا تو صرف ستو لایا گیا لوگوں نے اسے کھایا، پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی منگایا، اور کلی کی، پھر اٹھے اور ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 492]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الوضوء 51 (209)، 54 (215)، الجہاد، 123 (2981)، المغازي 3 (4175)، الأطعمة 8 (5384)، 9 (5390)، سنن النسائی/الطہارة 124 (186)، (تحفة الأشراف: 4813)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الطہارة 5 (20) مسند احمد (3/ 462، 488) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: «صہباء» : خیبر سے قریب ایک جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح