مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" تَوَضَّئُوا مِمَّا غَيَّرَتِ النَّارُ"، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَتَوَضَّأُ مِنَ الْحَمِيمِ؟ فَقَالَ لَهُ: يَا ابْنَ أَخِي إِذَا سَمِعْتَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَلَا تَضْرِبْ لَهُ الْأَمْثَالَ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”آگ پر پکی ہوئی چیزوں کے استعمال سے وضو کرو“، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا ہم گرم پانی استعمال کرنے سے بھی وضو کریں؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے بھتیجے! جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی حدیث سنو تو اس پر باتیں مت بناؤ“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 485]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الطہارة 58 (79)، (تحفة الأشراف: 15030)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 23 (351)، سنن ابی داود/الطہارة 76 (194)، سنن النسائی/الطہارة 122 (171)، مسند احمد (2/458، 503، 529) ومضی مختصرا برقم: (22) دون ''توضؤوا'' (حسن)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث میں اس بات پر سخت تنبیہ ہے کہ حدیث رسول سن کر کسی طرح کی ٹال مٹول کی جائے، آج جن لوگوں نے اپنا وطیرہ یہ بنایا ہوا ہے کہ جب تک اقوال ائمہ نہ پائیں اس وقت تک ان کے دلوں کو تسکین نہیں ہوتی ان کو اس سے عبرت حاصل کرنی چاہئے۔
قال الشيخ الألباني
حسن دون توضؤوا وهذا رواه م
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: حسن دون توضؤوا وهذا رواه م