أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْمُرُنَا أَنْ لَا نَنْزِعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، لَكِنْ مِنْ غَائِطٍ، وَبَوْلٍ، وَنَوْمٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اپنے موزوں کو تین دنوں تک جنابت کے سوا پاخانے، پیشاب اور نیند کے سبب نہ اتاریں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 478]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الطہارة 71 (96)، الدعوات 99 (3535)، سنن النسائی/الطہارة 98 (126)، 113 (158)، 114 (159)، (تحفة الأشراف: 4952)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/239، 240، 241) (حسن)»
وضاحت
۱؎: اس باب کی احادیث سے ثابت ہوا کہ معمولی نیند سے یا سجدہ وغیرہ میں سو جانے سے وضو نہیں ٹوٹتا، ہاں لیٹ کر سو گیا تو وضو کرے مسافر کے لئے جائز ہے کہ اگر موزے وضو کے بعد پہنے ہیں تو تین دن تین رات تک نہ اتارے مسح کرتا رہے، اگر غسل جنابت ہو تو اتارنا ضروری ہے، مقیم کے لئے موزوں پر مسح ایک دن ایک رات کے لئے ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن