الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، يَزِيدُ بْنُ السِّمْطِ ، الْوَضِينُ بْنُ عَطَاءٍ ، مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ السِّمْطِ ، حَدَّثَنَا الْوَضِينُ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ مَحْفُوظِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" تَوَضَّأَ فَقَلَبَ جُبَّةَ صُوفٍ كَانَتْ عَلَيْهِ فَمَسَحَ بِهَا وَجْهَهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنے پہنے ہوئے اون کے جبہ کو الٹ کر اس سے اپنا چہرہ پونچھ لیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 468]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4509، ومصباح الزجاجة: 191) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 3564) (حسن)»
وضاحت
۱؎: وضو کے بعد ہاتھ منہ صاف کرنے کے سلسلہ میں ممانعت کی کوئی حدیث صحیح نہیں لہذا جائز ہے ضروری نہیں، بلکہ زاد المعاد میں ابن القیم نے فرمایا ہے کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس باب میں ایک حدیث آئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک کپڑا تھا جس سے آپ اپنے اعضاء وضو پونچھا کرتے تھے۔
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث الآتي (3564)
السند منقطع،قال البوصيري: ’’ وفي سماع محفوظ عن سلمان نظر ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 394
الحكم: حسن