أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، أَبِي إِسْحَاق ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي كَرِبٍ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي كَرِبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" وَيْلٌ لِلْعَرَاقِيبِ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا: ”ایڑیوں کو دھونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے آگ کی تباہی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 454]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2256، ومصباح الزجاجة: 185)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/369، 393) (صحیح)» (اصل حدیث صحیحین میں عبد اللہ بن عمرو سے اور صحیح مسلم میں أبوہریرہ و ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہے)
وضاحت
۱؎: مصباح الزجاجۃ (ط۔ مصریہ) اور (ط۔ عوض الشہری) میں «للأعقاب» ہے، ایسے ہی حیدر آباد آصفیہ کے مصباح الزجاجۃ کے نسخہ میں ہے، فؤاد عبد الباقی، مشہور حسن اور اعظمی کے نسخہ میں «للعراقيب» ہے، دونوں ہم معنی لفظ ہیں۔
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح