إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ , أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا ابْنُ آدَمَ وَهَذَا أَجَلُهُ عِنْدَ قَفَاهُ" , وَبَسَطَ يَدَهُ أَمَامَهُ , ثُمَّ قَالَ:" وَثَمَّ أَمَلُهُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ابن آدم (انسان) ہے اور یہ اس کی موت ہے، اس کی گردن کے پاس، پھر اپنا ہاتھ آگے پھیلا کر فرمایا: ”اور یہاں تک اس کی آرزوئیں اور خواہشات بڑھی ہوئی ہیں“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4232]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/صفة القیامة 22 (2334)، (تحفة الأشراف: 1079)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق 4 (6418)، مسند احمد (3/123، 135، 142، 257) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: حدیث کا مطلب یہ ہے کہ پہلے آپ نے قد آدم تک اشارہ کیا کہ یہ آدمی ہے پھر ذرا کم کر کے بتلایا کہ یہ اس کی عمر ہے پھر اس سے بڑھا کر بتلایا کہ یہ آرزو ہے، یعنی اس کی عمر سے بہت بڑھی ہوئی ہے۔
الحكم: صحيح