أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ ، عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ , أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ , قَالَا: أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ , أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ , فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ , وَلِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى , فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ , فَهِجْرَتُهُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ , وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوِ امْرَأَةٍ يَتَزَوَّجُهَا , فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر آدمی کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی ہے، تو جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہوئی تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہی ہو گی، اور جس کی ہجرت کسی دنیاوی مفاد کے لیے یا کسی عورت سے شادی کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اسی کے لیے مانی جائے گی جس کے لیے اس نے ہجرت کی ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4227]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/بدء الوحي 1 (1)، الإیمان 41 (54)، العتق 6 (2529)، مناقب الأنصار 45 (3898)، النکاح 5 (5070)، الأیمان والنذور 23 (6689)، الحیل 1 (6953)، صحیح مسلم/الإمارة 45 (907)، سنن ابی داود/الطلاق 11 (2201)، سنن الترمذی/فضائل الجہاد 16 (1647)، سنن النسائی/الطہارة 60 (75)، الطلاق 24 (3467)، الأیمان والنذور 19 (3825)، (تحفة الأشراف: 10612)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/25، 43) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف ہجرت کرنے کا اس کو ثواب حاصل نہ ہو گا، یہ حدیث صحیح اور مشہور ہے، اور فقہائے نے اس سے سیکڑوں مسائل نکالے ہیں، اور یہ حدیث ایک بڑی اصل ہے دین کے اصول میں سے۔
الحكم: صحيح