سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، صَالِحُ بْنُ مُوسَى ، مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاق ، عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاق , عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ , عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْرَعُ الْخَيْرِ ثَوَابًا , الْبِرُّ وَصِلَةُ الرَّحِمِ , وَأَسْرَعُ الشَّرِّ عُقُوبَةً , الْبَغْيُ وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے جلدی جن نیکیوں کا ثواب ملتا ہے وہ نیکی اور صلہ رحمی ہے، اور سب سے جلدی جن برائیوں پر عذاب آتا ہے وہ بغاوت و سرکشی اور قطع رحمی ہیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4212]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17882، ومصباح الزجاجة: 1502) (ضعیف جدا)» (سند میں صالح بن موسیٰ متروک راوی ہے، اور اسے ہی سوید میں کلام ہے)
قال الشيخ الألباني
ضعيف جدا
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده ضعيف جدًا
صالح بن موسى الطلحي : متروك (ت+3739)
الحكم: ضعيف جدا