بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن ابن ماجہ

حدیث نمبر: 420 — باب: ایک ایک بار، دو دو بار، اور تین تین بار اعضائے وضو دھونے کا بیان۔
کتب سنن ابن ماجہ کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل باب: ایک ایک بار، دو دو بار، اور تین تین بار اعضائے وضو دھونے کا بیان۔ حدیث 420
جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ قَعْنَبٍ أَبُو بِشْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَرَادَةَ الشَّيْبَانِيُّ ، زَيْدِ بْنِ الْحَوَارِيِّ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُسَافِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ قَعْنَبٍ أَبُو بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَرَادَةَ الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ الْحَوَارِيِّ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً فَقَالَ:" هَذَا وَظِيفَةُ الْوُضُوءِ" أَوْ قَالَ:" وُضُوءٌ مَنْ لَمْ يَتَوَضَّأْهُ، لَمْ يَقْبَلُ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً، ثُمَّ تَوَضَّأَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ:" هَذَا وُضُوءٌ مَنْ تَوَضَّأَهُ، أَعْطَاهُ اللَّهُ كِفْلَيْنِ مِنَ الْأَجْرِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا"، فَقَالَ:" هَذَا وُضُوئِي، وَوُضُوءُ الْمُرْسَلِينَ مِنْ قَبْلِي".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کا پانی منگایا، اور ایک ایک مرتبہ اعضائے وضو کو دھویا، اور فرمایا: یہ وضو کے صحیح ہونے کی لازمی مقدار ہے، یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرمایا: یہ اس کا وضو ہے کہ اس کے بغیر اللہ تعالیٰ کسی کی کوئی بھی نماز قبول نہیں فرماتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اعضاء وضو کو دو دو بار دھویا، اور فرمایا: یہ وضو اس درجہ کا ہے کہ جو ایسا وضو کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو دوہرا اجر دے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، اور فرمایا: یہ میرا وضو ہے، اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام کا وضو ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 420]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«‏‏‏‏تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 65، ومصباح الزجاجة: 174) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (سند میں عبداللہ بن عرادة اور زید الحواری ’’العمی‘‘ دونوں ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني
ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
قال البوصيري: ’’ ھذا إسناد ضعيف زيد بن الحواري ھو العمي ضعيف وكذلك الراوي عنه ‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 393
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (419) باب پر واپس اگلی حدیث (421) →