الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ، صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، أَبِيهِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ , حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں اکثر لوگ اپنا نقصان کرتے ہیں: صحت و تندرستی اور فرصت و فراغت (کے ایام)“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4170]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الرقاق 1 (6412)، سنن الترمذی/الزہد 1 تعلیقا (2304)، (تحفة الأشراف: 5666)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/258، 244)، سنن الدارمی/الرقاق 2 (2749) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی ان کی قدر نہیں کرتے اور یوں ہی ضائع کرتے ہیں۔ اور جب دونوں نعمتیں اللہ تعالیٰ دے تو جلدی خوب عبادت کر لے، علم حاصل کرے، ایسا نہ ہو کہ یہ وقت گزر جائے اور فکر اور بیماری میں گرفتار ہو پھر کچھ نہ ہو سکے گا۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح بخاري
الحكم: صحيح