عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا، وَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مطلب بن عبداللہ بن حنطب کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اعضاء وضو کو تین تین بار دھویا، اور اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف منسوب کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 414]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن النسائی/الطہارة 65 (81)، (تحفة الأشراف: 7458) (صحیح)» (سند میں ولید اور مطلب کثیر التدلیس راوی ہیں، اور دونوں نے عنعنہ سے روایت کی ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے)
وضاحت
۱؎: یہ مرفوع حدیث کے حکم میں ہے، ان متعدد احادیث سے ثابت ہوا کہ شریعت نے آسانی کے لئے تین تین بار، دو دو بار، اور ایک ایک بار اعضاء وضو کو دھونا سب مشروع رکھا ہے جس طرح آسان ہو کرے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح