مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ , قَالَ: مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ , وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: أَشَدَّ سُؤَالًا مِنِّي , فَقَالَ لِي:" مَا تَسْأَلُ عَنْهُ" , قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّ مَعَهُ الطَّعَامَ وَالشَّرَابَ , قَالَ:" هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دجال کے بارے میں جتنے سوالات میں نے کئے ہیں، اتنے کسی اور نے نہیں کئے، (ابن نمیر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں «أشد سؤالا مني» یعنی ”مجھ سے زیادہ سوال اور کسی نے نہیں کئے“، آخر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”تم اس کے بارے میں کیا پوچھتے ہو“؟ میں نے عرض کیا: لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ کھانا اور پانی ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پر وہ اس سے بھی زیادہ آسان ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4073]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/الفتن 27 (7122)، صحیح مسلم/الفتن 22 (2939)، (تحفة الأشراف: 11523)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/246، 248، 252) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اللہ تعالیٰ پر یہ بات دجال سے زیادہ آسان ہے، یعنی جب اس نے دجال کو پیدا کر دیا تو اس کو کھانا پانی دینا کیا مشکل ہے، صحیحین کی روایت میں ہے کہ میں نے عرض کیا: لوگ کہتے ہیں کہ اس کے پاس روٹی کا پہاڑ ہو گا اور پانی کی نہریں ہوں گی، تب آپ نے یہ فرمایا: اور ممکن ہے کہ حدیث کا ترجمہ یوں کیا جائے کہ اللہ تعالی پر یہ بات آسان ہے دجال سے زیادہ یعنی جب اس نے دجال کو پیدا کر دیا تو اس کو کھانا پانی دینا کیا مشکل ہے، اور بعضوں نے کہا مطلب یہ ہے کہ دجال ذلیل ہے، اللہ تعالی کے نزدیک اس سے کہ ان چیزوں کے ذریعے سے اس کی تصدیق کی جائے کیونکہ اس کی پیشانی اور آنکھ پر اس کے جھوٹے ہونے کی نشانی ظاہر ہوگی، واللہ اعلم۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح