مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى ، مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، أَبِي شَجَرَةَ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ , عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ , عَنْ أَبِي شَجَرَةَ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُهْلِكَ عَبْدًا , نَزَعَ مِنْهُ الْحَيَاءَ , فَإِذَا نَزَعَ مِنْهُ الْحَيَاءَ , لَمْ تَلْقَهُ إِلَّا مَقِيتًا مُمَقَّتًا , فَإِذَا لَمْ تَلْقَهُ إِلَّا مَقِيتًا مُمَقَّتًا , نُزِعَتْ مِنْهُ الْأَمَانَةُ , فَإِذَا نُزِعَتْ مِنْهُ الْأَمَانَةُ , لَمْ تَلْقَهُ إِلَّا خَائِنًا مُخَوَّنًا , فَإِذَا لَمْ تَلْقَهُ إِلَّا خَائِنًا مُخَوَّنًا , نُزِعَتْ مِنْهُ الرَّحْمَةُ , فَإِذَا نُزِعَتْ مِنْهُ الرَّحْمَةُ , لَمْ تَلْقَهُ إِلَّا رَجِيمًا مُلَعَّنًا , فَإِذَا لَمْ تَلْقَهُ إِلَّا رَجِيمًا مُلَعَّنًا , نُزِعَتْ مِنْهُ رِبْقَةُ الْإِسْلَامِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس سے شرم و حیاء کو نکال لیتا ہے، پھر جب حیاء اٹھ جاتی ہے تو اللہ کے قہر میں گرفتار ہو جاتا ہے، اور اس حالت میں اس کے دل سے امانت بھی چھین لی جاتی ہے، اور جب اس کے دل سے امانت چھین لی جاتی ہے تو وہ چوری اور خیانت شروع کر دیتا ہے، اور جب چوری اور خیانت شروع کر دیتا ہے تو اس کے دل سے رحمت چھین لی جاتی ہے، اور جب اس سے رحمت چھین لی جاتی ہے تو تم اسے ملعون و مردود پاؤ گے، اور جب تم ملعون و مردود دیکھو تو سمجھ لو کہ اسلام کا قلادہ اس کی گردن سے نکل چکا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4054]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7382، ومصباح الزجاجة: 1430) (موضوع)» (سند میں سعید بن سنان متروک راوی ہے، اور دارقطنی وغیرہ نے وضع حدیث کا اتہام لگایا ہے، نیز ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 3044)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده موضوع
سعيد بن سنان الحنفي:متروك
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 521
الحكم: موضوع