مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , لَا يُحَدِّثُكُمْ بِهِ أَحَدٌ بَعْدِي , سَمِعْتُهُ مِنْهُ:" إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ , وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ , وَيَفْشُوَ الزِّنَا , وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ , وَيَذْهَبَ الرِّجَالُ , وَيَبْقَى النِّسَاءُ , حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمٌ وَاحِدٌ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں تم سے وہ حدیث نہ بیان کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے، اور میرے بعد تم سے وہ حدیث کوئی بیان کرنے والا نہیں ہو گا، میں نے اسے آپ ہی سے سنا ہے کہ ”قیامت کی نشانیاں یہ ہیں کہ علم اٹھ جائے گا، جہالت پھیل جائے گی، زنا عام ہو جائے گا، شراب پی جانے لگے گی، مرد کم ہو جائیں گے، عورتیں زیادہ ہوں گی حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا «قيم» (سر پرست و کفیل) ایک مرد ہو گا“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4045]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/العلم 21 (81)، صحیح مسلم/العلم 5 (2671)، سنن الترمذی/الفتن 34 (2205)، (تحفة الأشراف: 1240)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/98، 186، 202، 273، 277) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس کی وجہ یہ ہو گی کہ اس وقت لڑائیاں بہت ہوں گی ان لڑائیوں میں مرد مارے جائیں گے اور عورتیں بکثرت باقی رہ جائیں گی۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح