أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ ، إِسْحَاق بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ ، الْمَقْبُرِيِّ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ , عَنْ إِسْحَاق بْنِ أَبِي الْفُرَاتِ , عَنْ الْمَقْبُرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ سَنَوَاتٌ خَدَّاعَاتُ , يُصَدَّقُ فِيهَا الْكَاذِبُ , وَيُكَذَّبُ فِيهَا الصَّادِقُ , وَيُؤْتَمَنُ فِيهَا الْخَائِنُ , وَيُخَوَّنُ فِيهَا الْأَمِينُ , وَيَنْطِقُ فِيهَا الرُّوَيْبِضَةُ , قِيلَ: وَمَا الرُّوَيْبِضَةُ؟ قَالَ: الرَّجُلُ التَّافِهُ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مکر و فریب والے سال آئیں گے، ان میں جھوٹے کو سچا سمجھا جائے گا اور سچے کو جھوٹا، خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن، اور اس زمانہ میں «رويبضة» بات کرے گا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا گیا: «رويبضة» کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”حقیر اور کمینہ آدمی، وہ لوگوں کے عام انتظام میں مداخلت کرے گا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4036]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12950، ومصباح الزجاجة: 1423)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/291) (صحیح)» (سند میں ابن قدامہ ضعیف، اور اسحاق بن أبی الفرات مجہول ہیں، لیکن مسند احمد 2 / 338 کے طریق سے تقویت پاکر یہ حسن ہے، اور انس رضی اللہ عنہ کی حدیث مسند احمد 3/220، سے تقویت پاکر صحیح ہے)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
عبد الملك بن قدامة الجمحي ضعيف (تقريب: 4204) و روي أحمد (2/ 338 ح 8459) بسند حسن عن سعيد بن عبيد بن السباق (ثقة تابعي) عن أبي ھريرة قال قال رسول اللّٰه صلى الله عليه و آله وسلم: ((قبل الساعة سنون خدّاعة،يكذّب فيھا الصادق و يصدّق فيھا الكاذب ويخوّن فيھا الأمين و يؤتمن فيھا الخائن و ينطق فيھا الرويبضة (وفي رواية سريج): و ينظر فيھا للرويبضة)) وھو يغني عنه۔وقال ابن الأثير في الرويبضة: ’’ تصغير الرابضة وھو العاجز الذي ربض عن معالي الأمور و قعد عن طلبھا ‘‘ (النهاية في غريب الحديث والأثر 2/ 185)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 520
الحكم: صحيح