عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ صَالِحٍ a> , حَدَّثَنَا ، إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ ، الْأَعْمَشِ ، يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ الرَّقِّيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ صَالِحٍ a> , حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يُوسُفَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُؤْمِنُ الَّذِي يُخَالِطُ النَّاسَ وَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ , أَعْظَمُ أَجْرًا مِنَ الْمُؤْمِنِ الَّذِي لَا يُخَالِطُ النَّاسَ وَلَا يَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُمْ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مومن جو لوگوں سے مل جل کر رہتا ہے، اور ان کی ایذاء پر صبر کرتا ہے، تو اس کا ثواب اس مومن سے زیادہ ہے جو لوگوں سے الگ تھلگ رہتا ہے، اور ان کی ایذاء رسانی پر صبر نہیں کرتا ہے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4032]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/صفة القیامة 55 (2507)، (تحفة الأشراف: 8565)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/43) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: بلکہ عزلت اور تنہائی میں بسر کرتا ہے، یہ حدیث دلیل ہے ان لوگوں کی جو میل جول کو تنہائی اور گوشہ نشینی سے بہتر جانتے ہیں، بشرطیکہ میل جول کے آداب اور تقاضے کے مطابق زندگی گزارتا ہو، یعنی جمعہ، جماعت، عیدین اور جنازے میں حاضر ہو اور بیمار کی عیادت کرے اور لوگوں کو ایذا نہ دے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح