مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ شَقِيقٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَهُوَ" يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ , وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ , وَيَقُولُ: رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انبیاء کرام (علیہم السلام) میں سے ایک نبی کی حکایت بیان کر رہے تھے جن کو ان کی قوم نے مارا پیٹا تھا، وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جاتے تھے، اور یہ کہتے جاتے تھے: اے میرے رب! میری قوم کی مغفرت فرما، کیونکہ وہ لوگ نہیں جانتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4025]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء 54 (3477)، صحیح مسلم/الجہاد 36 (1792)، (تحفة الأشراف: 9260)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/456، 457، 380، 427، 432) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: خود آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جنگ احد میں جب کافروں کے ہاتھ سے پتھر کھائے، چہرہ مبارک زخمی ہوا، دانت شہید ہوا، خون بہہ رہا تھا، لوگوں نے عرض کیا کہ اب تو کافروں کے لئے بددعا فرمائیے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ میری قوم کو ہدایت دے، یہ دین کو نہیں جانتے ہیں“۔
قال الشيخ زبير على زئي
متفق عليه
الحكم: صحيح