يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، وَيَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَاصِمٍ ، مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ , وَيَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً؟ قَالَ:" الْأَنْبِيَاءُ , ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ , يُبْتَلَى الْعَبْدُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ , فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صُلْبًا اشْتَدَّ بَلَاؤُهُ , وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ , فَمَا يَبْرَحُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَتْرُكَهُ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے زیادہ مصیبت اور آزمائش کا شکار کون ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء، پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں، پھر جو ان کے بعد ہیں، بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر وہ دین میں سخت اور پختہ ہے تو آزمائش بھی سخت ہو گی، اور اگر دین میں نرم اور ڈھیلا ہے تو مصیبت بھی اسی انداز سے نرم ہو گی، مصیبتوں سے بندے کے گناہوں کا کفارہ ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ بندہ روے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4023]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن الترمذی/الزہد 56 (2398)، (تحفة الأشراف: 3934)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/172، 173، 180، 185)، سنن الدارمی/الرقاق 67 (2825) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده حسن
الحكم: حسن صحيح