أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ رَجَاءٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , وعَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ . عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ: أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِي يَوْمِ عِيدٍ , فَبَدَأَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ , فَقَالَ رَجُلٌ: يَا مَرْوَانُ , خَالَفْتَ السُّنَّةَ , أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ فِي هَذَا الْيَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ يُخْرَجُ , وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَةِ قَبْلَ الصَّلَاةِ وَلَمْ يَكُنْ يُبْدَأُ بِهَا , فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ:" مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا , فَاسْتَطَاعَ أَنْ يُغَيِّرَهُ بِيَدِهِ , فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ , فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ , فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ , وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مروان نے عید کے دن منبر نکلوایا اور نماز عید سے پہلے خطبہ شروع کر دیا، تو ایک شخص نے کہا: مروان! آپ نے سنت کے خلاف کیا، ایک تو آپ نے اس دن منبر نکالا حالانکہ اس دن منبر نہیں نکالا جاتا، پھر آپ نے نماز سے پہلے خطبہ شروع کیا، حالانکہ نماز سے پہلے خطبہ نہیں ہوتا، ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اس شخص نے تو اپنا وہ حق جو اس پر تھا ادا کر دیا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”تم میں سے جو شخص کوئی بات خلاف شرع دیکھے، تو اگر اسے ہاتھ سے روکنے کی طاقت رکھتا ہو تو اسے ہاتھ سے روک دے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے روکے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو اس کو دل سے برا جانے، اور یہ ایمان کا سب سے معمولی درجہ ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4013]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الإیمان 20 (49)، سنن ابی داود/الصلاة 248 (1140)، الملاحم 17 (4340)، سنن الترمذی/الفتن 11 (2172)، سنن النسائی/الإیمان وشرائعہ 17 (5011، 5012)، (تحفة الأشراف: 12142)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/9، 10، 49، 52، 54، 92) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
الحكم: صحيح