أَبُو كُرَيْبٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحْقِرْ أَحَدُكُمْ نَفْسَهُ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ يَحْقِرُ أَحَدُنَا نَفْسَهُ؟ قَالَ:" يَرَى أَمْرًا لِلَّهِ عَلَيْهِ فِيهِ مَقَالٌ , ثُمَّ لَا يَقُولُ فِيهِ , فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَقُولَ فِي كَذَا كذا وَكَذَا , فَيَقُولُ: خَشْيَةُ النَّاسِ , فَيَقُولُ: فَإِيَّايَ كُنْتَ أَحَقَّ أَنْ تَخْشَى".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص اپنے آپ کو حقیر نہ جانے“، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم میں سے کوئی اپنے آپ کو کیسے حقیر جانتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص کوئی بات ہوتے دیکھے اور اس کے بارے میں اسے اللہ کا حکم معلوم ہو لیکن نہ کہے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے فرمائے گا: تجھے فلاں بات کہنے سے کس نے منع کیا تھا؟ وہ جواب دے گا: لوگوں کے خوف نے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تیرے لیے زیادہ درست بات یہ تھی کہ تو مجھ سے ڈرتا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4008]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 4043، ومصباح الزجاجة: 1409)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/30، 47، 73) (ضعیف)» (سند میں اعمش مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
السند منقطع
أبو البختري لم يسمعه أبي سعيد،صرح به أحمد (84/3،91)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 519
الحكم: ضعيف