أَبُو يُوسُفَ بْنُ الصَّيْدَلَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّقِّيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، ابْنِ إِسْحَاق ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو يُوسُفَ بْنُ الصَّيْدَلَانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّقِّيُّ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ ابْنِ إِسْحَاق , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ مِنْ سُخْطِ اللَّهِ لَا يَرَى بِهَا بَأْسًا , فَيَهْوِي بِهَا فِي نَارِ جَهَنَّمَ سَبْعِينَ خَرِيفًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اپنی زبان سے اللہ کی ناراضگی کی بات کہتا ہے، اور وہ اس میں کوئی حرج نہیں محسوس کرتا، حالانکہ اس بات کی وجہ سے وہ ستر برس تک جہنم کی آگ میں گرتا چلا جاتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3970]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ، (تحفة الأشراف: 14995، ومصباح الزجاجة: 1399)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الرقاق 23 (6478)، صحیح مسلم/الزہد والرقاق 6 (2988)، سنن الترمذی/الزہد 10 (2314)، موطا امام مالک/الکلام 2 (6)، مسند احمد (2/236، 533) (صحیح)» (سند میں ابن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے کی ہے، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے، کمافی التخریج)
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح