أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي ضَمْرَةَ نَصْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحِمْصِيُّ ، أَبِي ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ النَّصْرِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي ضَمْرَةَ نَصْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَيْسٍ النَّصْرِيُّ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ , وَيَقُولُ:" مَا أَطْيَبَكِ وَأَطْيَبَ رِيحَكِ , مَا أَعْظَمَكِ وَأَعْظَمَ حُرْمَتَكِ , وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , لَحُرْمَةُ الْمُؤْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ حُرْمَةً مِنْكِ مَالِهِ وَدَمِهِ وَأَنْ , نَظُنَّ بِهِ إِلَّا خَيْرًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا، اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ فرما رہے تھے: ”تو کتنا عمدہ ہے، تیری خوشبو کتنی اچھی ہے، تو کتنا بڑے رتبہ والا ہے اور تیری حرمت کتنی عظیم ہے، لیکن قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، مومن کی حرمت (یعنی مومن کے جان و مال کی حرمت) اللہ تعالیٰ کے نزدیک تجھ سے بھی زیادہ ہے، اس لیے ہمیں مومن کے ساتھ حسن ظن ہی رکھنا چاہیئے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3932]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 7284، ومصباح الزجاجة: 1377) (حسن)» (سند میں نصر بن محمد ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: تراجع الألبانی: رقم: 89)
قال الشيخ زبير على زئي
ضعيف
إسناده ضعيف
نصر بن محمد: ضعيف
و للحديث شواھد ضعيفة،و روي الترمذي (2032) عن نافع و ذكر الحديث و فيه: ’’ قال: و نظر ابن عمر يومًا إلي البيت أو الكعبة فقال: ما أعظمك و أعظم حرمتك و المؤمن أعظم حرمة عند اللّٰه منك۔‘‘ و قال الترمذي: ’’ ھذا حديث حسن غريب ‘‘ إلخ وسنده حسن وھو يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 517
الحكم: ضعيف