عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ , كَأَنَّ عُنُقِي ضُرِبَتْ وَسَقَطَ رَأْسِي فَاتَّبَعْتُهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَعَدْتُهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا لَعِبَ الشَّيْطَانُ بِأَحَدِكُمْ فِي مَنَامِهِ , فَلَا يُحَدِّثَنَّ بِهِ النَّاسَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے کل رات خواب دیکھا کہ میری گردن اڑا دی گئی، اور میرا سر الگ ہو گیا، میں اس کے پیچھے چلا اور اس کو اٹھا کر پھر اپنے مقام پر رکھ لیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب شیطان خواب میں تم میں سے کسی کے ساتھ کھیلے تو وہ اسے لوگوں سے بیان نہ کرے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3912]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الرؤیا 1 (2268)، (تحفة الأشراف: 2308)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/315) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح