أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، شَيْبَانُ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، رَبِيعَةَ بْنَ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيَّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ , أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ كَعْبٍ الْأَسْلَمِيَّ أَخْبَرَهُ , أَنَّهُ كَانَ يَبِيتُ عِنْدَ بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكَانَ يَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُول مِنَ اللَّيْلِ:" سُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ" الْهَوِيَّ , ثُمَّ يَقُولُ:" سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ خبر دیتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دروازے کے پاس رات گزارتے تھے اور رات کو بڑی دیر تک آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنتے: «سبحان الله رب العالمين» پھر فرماتے: «سبحان الله وبحمده» ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3879]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصلاة 43 (489)، سنن ابی داود/الصلاة 312 (1320)، سنن الترمذی/الدعوات 7 (3416)، سنن النسائی/التطبیق 79 (1139)، (تحفة الأشراف: 3603)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/49، 57) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رات کو جب نیند سے بیدار ہو تو جہاں تک ہو سکے کلمہ پڑھ کر دعا کرے، اور استغفار پڑھے، اور تسبیح یا تہلیل میں مشغول رہے، تو اس کو قیام اللیل کا ثواب مل جائے گا، لیکن افضل یہ ہے کہ بستر سے اٹھے اور وضو کر کے تہجد پڑھے، اگر کسی سے تہجد ادا نہ ہو سکے تو کم سے کم یہ ضروری ہے کہ بچھونے پر ہی رہ کر یہ کلمہ جتنی بار ہو سکے پڑھے اور استغفار کرے، اور دعا کرے، قیام اللیل اس قدر بھی ادا ہو جائے گا، اور جان لینا چاہیے کہ سلف صالحین نے قیام اللیل کبھی ترک نہیں کیا، اور وہ ضروری ہے اگرچہ تھوڑا سا ہی ہو یعنی ایک بار یہ کلمہ پڑھ کر دعا کر لے جیسا اس حدیث میں ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح