عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاق ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ لِرَجُلٍ:" إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ , أَوْ أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ , فَقُلْ: اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ , وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ , وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ , رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ , لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَأَ مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ , آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ , وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ , فَإِنْ مِتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ , مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ , وَإِنْ أَصْبَحْتَ , أَصْبَحْتَ وَقَدْ أَصَبْتَ خَيْرًا كَثِيرًا".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ”جب تم سونے لگو یا اپنے بستر پر جاؤ تو یہ دعا پڑھا کرو: «اللهم أسلمت وجهي إليك وألجأت ظهري إليك وفوضت أمري إليك رغبة ورهبة إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك آمنت بكتابك الذي أنزلت ونبيك الذي أرسلت» ”اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ (یعنی نفس) تجھ کو سونپ دیا، اپنی پیٹھ تیرے سہارے پر لگا دی، اور اپنا کام تیرے سپرد کر دیا، امیدی ناامیدی کے ساتھ تیری ذات پر بھروسہ کیا، سوائے تیرے سوا کہیں اور کوئی جائے پناہ اور جائے نجات نہیں، میں تیری کتاب پر جسے تو نے نازل کیا، اور تیرے نبی پر جسے تو نے بھیجا ایمان لایا، پھر اگر تمہارا اس رات انتقال ہو گیا تو دین اسلام پر مرو گے، اور اگر تم نے صبح کی تو تم خیر کثیر کے ساتھ صبح کرو گے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3876]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 1852)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الوضوء 75 (247)، صحیح مسلم/الذکر والدعاء 17 (2710)، سنن الترمذی/الدعوات 16 (3394)، مسند احمد (4/ 289، 298، 303)، سنن الدارمی/ الاستئذان 51 (2725) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح