أَبُو بَكْرٍ ، الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، أَبِيهِ ، أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , لَهُ الْمُلْكُ , وَلَهُ الْحَمْدُ , وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ , كَانَ لَهُ عَدْلَ رَقَبَةٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيل , وَحُطَّ عَنْهُ عَشْرُ خَطِيئَاتٍ , وَرُفِعَ لَهُ عَشْرُ دَرَجَاتٍ , وَكَانَ فِي حِرْزٍ مِنَ الشَّيْطَانِ حَتَّى يُمْسِيَ , وَإِذَا أَمْسَى فَمِثْلُ ذَلِكَ حَتَّى يُصْبِحَ" , قَالَ: فَرَأَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَبَا عَيَّاشٍ يَرْوِي عَنْكَ كَذَا وَكَذَا , فَقَالَ:" صَدَقَ أَبُو عَيَّاشٍ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص صبح کے وقت یہ دعا پڑھے: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير» ”اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد و ثنا، وہی ہر چیز پر قادر ہے“ تو اسے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے، اور اس کے دس گناہ مٹا دئیے جاتے ہیں، اور اس کے دس درجے بڑھا دئیے جاتے ہیں، اور وہ شام تک شیطان سے محفوظ رہتا ہے، اور اگر شام کے وقت یہ پڑھے تو وہ صبح تک ایسے ہی رہتا ہے تو ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خواب میں دیکھا، اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ابوعیاش آپ سے ایسی اور ایسی حدیث بیان کرتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ابوعیاش سچ کہتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3867]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الأدب 110 (5077)، (تحفة الأشراف: 12076)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/356، 420) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
إسناده صحيح
الحكم: صحيح