أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ ، أَبِي عُثْمَانَ ، سَلْمَانَ
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ , عَنْ سَلْمَانَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إِنَّ رَبَّكُمْ حَيِيٌّ كَرِيمٌ , يَسْتَحْيِي مِنْ عَبْدِهِ أَنْ يَرْفَعَ إِلَيْهِ يَدَيْهِ , فَيَرُدَّهُمَا صِفْرًا أَوْ قَالَ خَائِبَتَيْنِ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا رب «حی» (بڑا باحیاء، شرمیلا) اور کریم ہے، اسے اس بات سے شرم آتی ہے کہ اس کا بندہ اس کے سامنے ہاتھ پھیلائے تو وہ انہیں خالی یا نامراد لوٹا دے“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3865]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/الصلاة 358 (1488)، سنن الترمذی/الدعوات 105 (3556)، (تحفة الأشراف: 4494)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/438) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: یعنی صالح مومن کی دعا خالی نہیں جاتی، یا تو دنیا ہی میں قبول کر لی جاتی ہے، یا پھر آخرت میں اسے اس کا بہتر بدلہ ملے گا۔
قال الشيخ زبير على زئي
حسن
وله شاھد حسن عند امالي المحاملي (433 وسنده حسن، /نديم ظهير)
الحكم: صحيح