أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، الْأَعْرَجِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ , عَنْ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ فِرَاشِهِ , فَالْتَمَسْتُهُ , فَوَقَعَتْ يَدِي عَلَى بَطْنِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ , وَهُمَا مَنْصُوبَتَانِ , وَهُوَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ , وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ , لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ , أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ".
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بستر پر موجود نہ پایا تو میں آپ کو ڈھونڈھنے لگی (مکان میں اندھیرا تھا) تو میرا ہاتھ آپ کے قدموں کے تلووں پر جا پڑا، دونوں پاؤں کھڑے تھے اور آپ (حالت سجدہ میں) یہ دعا کر رہے تھے: «اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» ”اے اللہ! میں پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے، اور تیری عافیت کی تیری سزا سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں تیرے عذاب سے، میں تیری تعریف کما حقہ نہیں کر سکتا، تو ویسے ہی ہے جیسے تو نے خود اپنی تعریف فرمائی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3841]
تخریج الحدیث دارالدعوہ
«صحیح مسلم/الصلاة 42 (486)، سنن ابی داود/الصلاة 152 (879)، سنن النسائی/الطہارة 120 (169)، التطبیق 47 (1101)، 71 (1131)، (تحفة الأشراف: 17807)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/القرآن 8 (13)، مسند احمد (6/58، 201) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح مسلم
الحكم: صحيح